Description
دارالفنون کے لیے آسٹریا سے بلائے گئے اساتذہ دو دن بعد ایران پہنچے اور تدریس شروع کی، لیکن اب چونکہ امیرکبیر برسرِ اقتدار نہیں تھے، برطانوی سفیر نے کوشش کی کہ شاہ انہیں واپس بھیج دے۔ تاہم، ناصرالدین شاہ نے آسٹریا کے بادشاہ کے احترام میں انہیں واپس بھیجنے سے انکار کردیا۔ بعد میں ان اساتذہ میں سے تین افراد پراسرار حالات میں یکے بعد دیگرے فوت ہو گئے۔ ’’زاتی‘‘جو کہ ریاضی اور انجینئرنگ کا استاد تھا اپنے کمرے میں مردہ پایا گیا اس کی موت غالباً کوئلے کے دھوئیں سے دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی تھی ۔ جوزف کارنتا، معدنیات کا استاد، اچانک ایک نامعلوم بیماری کے سبب فوت ہوگیا اس بیماری کی وجہ سے اس کے جسم میں شدید تشنج تھا۔ شاہ کا فرانسیسی طبیب، کلوکے، زہر آلود شراب پینے کے فوراً بعد مر گیا۔ دارالفنون کی ان پراسرار اموات کا راز کبھی کھل نہ سکا۔





Reviews
There are no reviews yet.